بنگلورو،14؍اکتوبر(ایس اونیوز)سینئر جنتادل (ایس) لیڈر اور کڈور کے رکن اسمبلی وائی ایس وی دتہ نے حق تعلیم قانون کو ختم کرنے پر زور دیا اور کہاکہ اس قانون کی آڑ میں نجی تعلیمی اداروں کو فروغ مل رہا ہے اور سرکاری اسکول تباہی کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں۔ اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ریاستی اور مرکزی حکومتوں کو سرکاری اسکولوں کے انفرااسٹرکچر میں سدھار کی طرف متوجہ ہونا چاہئے، آر ٹی ای کے نام پر ریاستی حکومت سالانہ نجی تعلیمی اداروں کو 550 کروڑ روپیوں کی رقم ادا کررہی ہے، یہی رقم اگر سرکاری تعلیمی اداروں کو بہتر بنانے پر خرچ کی جائے تو ان کے معیار کو بہت آگے لے جایا جاسکتا ہے۔ نجی تعلیمی اداروں کو بڑھاوا دئے جانے کی وجہ سے سرکاری اسکول بند ہونے کے دھانے پر پہنچ چکے ہیں۔ گزشتہ دس سالوں سے اساتذہ کی بھرتیاں نہیں ہوئیں۔ سرکاری اسکولوں کے قریب حکومت کی طرف سے ہی نجی تعلیمی اداروں کے قیام کی اجازت دی جارہی ہے۔ تاکہ بچے سرکاری اسکولوں میں داخلہ لینے کی بجائے نجی تعلیمی اداروں کا رخ کریں ۔ انہوں نے نجی تعلیمی اداروں پر سرکاری گرفت کو اور مضبوط کرنے اور انہیں جوابدہ بنانے پر زور دیا۔ طلبا کی کمی کے بہانے سے سرکاری اسکولوں کو بند کرنے کی حماقت سے گریز کرنے حکومت کو متنبہ کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ مرکزی اور ریاستی حکومتوں نے جو پالیسی اپنائی ہے اس کی وجہ سے ریاست بھر میں مادری زبان سے جڑے تعلیمی اداروں کی حالت انتہائی خستہ ہوتی جارہی ہے۔ ان اداروں کو ترقی دینے کی طرف کوئی توجہ دینے تیار نہیں۔اس موقع پر مخاطب ہوکر سابق وزیر اور جنتادل (ایس) لیڈر ایچ ڈی ریونانے کہاکہ ریاستی حکومت کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے بند ہونے کے دھانے پر پہنچ چکے کنڑا اسکولوں کو بچانے کیلئے جنتادل (ایس) کی طرف سے خصوصی مہم شروع کی جائے گی۔ انہوں نے کہاکہ یکم نومبر کے بعد سے ریاست کے ادباء ودانشوروں پر مشتمل ایک غیر سیاسی کنڑا اسکول بچاؤ مہم شروع کی جائے گی۔انہوں نے کہاکہ ریاست کے تین ہزار کنڑا اسکولوں میں طلبا نہیں ہیں ، جس کی وجہ سے حکومت نے ان اسکولوں کو بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان اسکولوں کو اگر بہتر انفرااسٹرکچر اور سہولیات فراہم کرنے کی طرف توجہ دی جائے توانہیں بچایا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ فی الوقت سرکاری افسران اور سیاستدانوں کے بچے سرکاری اسکولوں میں نہیں پڑتے ، جس کی وجہ سے ان لوگوں کو ان اسکولوں کی اہمیت کا اندازہ نہیں ہے۔ امسال پی یو سی سال دوم کے پرچۂ سوالات کے افشا کے معاملے کو خاموشی سے ختم کردینے محکمۂ تعلیمات پر الزام لگاتے ہوئے ریونا نے کہاکہ اس پرچہ کے فاش ہوجانے کیلئے محکمۂ تعلیمات کے پرنسپل سکریٹری اجئے سیٹھ کو ذمہ دار ٹھہرایا جانا چاہئے۔انہوں نے یہ بھی مانگ کی کہ تعلیمی امور پر بحث کیلئے ریاستی لیجسلیچر کا ایک خصوصی اجلاس بھی طلب کیاجانا چاہئے۔